1 ستمبر 2011 - 19:30

کوئٹہ کے گلستان روڈ پر گذشتہ روز عید کے نمازیوں پر ہونے والے خودکش دھماکے کے دو مزید زخمی شہید ہوگئے اور شہداء کی تعداد چودہ ہوگئی۔

اہل االبیت نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق کل کی دہشت گردانہ کاروائی کے شہداء دفن کئےگئے اور 24 گھنٹے بھی گذرگئے لیکن گذشتہ سال یوم القدس کے واقعے کی طرح اس واقعے کا مقدمہ بھی درج نہیں ہوسکا۔

کوئٹہ کے گلستان روڈ پر گذشتہ روز کالعدم  مگر اندھیر نگری کی اپنی خاص صورتحال کے باعث "نہایت سرگرم" دہشت گرد ٹولوں نے کل نماز عید کے بعد شیعہ نمازیوں پر حملہ کیا جس کے باعث گیارہ افراد شہید اور 22 زخمی ہوئے تھے اور آج ان زخمیوں میں سے ایک بچی سمیت دو مزید افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے اور یوں شہداء کی تعداد چودہ ہوگئی۔

دوسری جانب گلستان روڈ خودکش بم دھماکے کا مقدمہ 26گھنٹے گذر جانے کے باوجود قائد آباد تھانے میں درج نہیں ہوسکا۔ اس سلسلے میں پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کرنے کیلئے مکمل معلومات نہیں مل سکی ہیں تاہم جلد مقدمہ درج کرلیا جائے گا۔

پولیس کے مطابق ابھی تک دھماکے کی تحقیقات کے سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ 
سوال تو یہ ہے کہ اس سے قبل کتنے مقدمے درج نہیں ہوسکے ہیں؟ کتنے دہشت گرد اور اشتہاری قاتل اور دہشت گرد گرفتار ہوکر بھی "شواہد نہ ہونے کے باوجود" رہا ہوگئے ہیں؟ اور یہ کہ 600 افراد کو قتل کرنے والوں میں سے کون گرفتار ہوا ہے کہ اب ان دہشت گردوں کی گرفتاری کی توقع رکھی جاسکے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110

- بلوچستان شیعہ کانفرنس: امن و امان کے قیام کے لئے کوئٹہ فوج کے حوالے کیا جائے

- کوئٹہ میں نماز عید کے بعد خودکش حملہ،11 شیعہ نمازی شہید، متعدد زخمی / ویڈیو لنک اور تصاویر

- کوئٹہ: شہدائے عیدالفطر کو سپرد خاک کردیا گیا

- پاراچنار: شیعہ نسل کشی جاری؛ جشن عید کے لئے جانے والے سات افراد شہید